020 8813 8600

Hajj Guide (URDU)

All you need to know

WE ARE NOW TAKING BOOKINGS FOR HAJJ 2017 - LIMITED PLACES!
CONTACT US TODAY FOR NO OBLIGATION TAILOR MADE QUOTE!

حج اسلام کا اہم ترین رکن اور دینی فریضوں میں عظیم ترین فریضہ ہے ۔

قرآن مجید ایک مختصر اور پر معنی عبارت میں فرماتا ہے -

وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلا۔

اور خدا کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے اگر اس راہ کی استطاعت رکھتے ہوں ۔

اسی آیہ شریفہ کے ذیل میں فرماتے ہیں :

وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِیٌّ عَنْ الْعَالَمِینَ، سورۃ آل عمران: آیت ۹۷

اور جنہوں نے کفر و سرکشی اختیار کی ، بے شک خداوند کریم تمام عالمین سے بے نیاز ہے ۔

اس اہم عبادت کی حضوصی تاکید احادیث نبویہ میں وارد ہوئی ہے اور اُن لوگوں کے لئے جن پر حج فرض ہوگیا ہے لیکن دنیاوی اغراض یا سستی کی وجہ سے بلاشرعی مجبوری کے حج ادا نہیں کرتے، سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے چند حسب ذیل ہیں

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فریضۂ حج ادا کرنے میں جلدی کرو کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کیا عذر پیش آجائے۔ مسند احمد 

شریعت کی رو سے پوری زندگی میں حج صرف ایک بار فرض ہے، اس کے بعد اگر کوئی حج کرتا ہے تو اس کی حیثیت نفل کی ہوگی۔اس حوالے سے ایک حدیث ملاحظہ ہو۔حضرت ابو ہریرہ ص سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا:

یَا اَیُّھَاالنَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحَجُّوْا 

اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، پس تم حج کرو۔

ایک شخض نے کہا :یا رسول اللہ !کیا یہ ہر سال فرض ہے؟آپ صلی الله علیہ وسلم خاموش رہے۔اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا۔توآپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَّا اسْتَطَعْتُمْ

اگر میں ہاں کہہ دیتا تو پھر حج ہر سال فرض ہوجاتا اور تم اس کی ہرگز طاقت نہ رکھتے۔

اس حوالے سے بھی ہمارا معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہے ۔بعض لوگ تو ایسے ہیں جو استطاعت کے باوجود اپنا فرض حج ادا نہیں کرتے اور بعض ایسے ہیں جو ہر سال حج کے لیے جاتے ہیں۔ صاحب استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ ہر سال خود حج پر جانے کے بجائے اپنے رشتہ داروں میں سے کسی غریب کو حج کرا دیں یا کسی غریب کی مدد کردیں۔یہ نفلی حج سے زیادہ ثواب کے کام ہیں۔اور باقی وہ لوگ جواستطاعت کے باوجود حج پر نہیں جاتے وہ اس تاخیر کے سبب گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں، ان کو چاہیے کہ پہلی فرصت میں اپنا فرض حج ادا کریں۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہے (یعنی جس پر حج فرض ہوگیا ہے) اس کو جلدی کرنی چاہئے۔ ابو داؤد

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کسی ضروری حاجت یا ظالم بادشاہ یا شدید مرض نے حج سے نہیں روکا اور اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا تو وہ چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے۔ (الدارمی) یعنی یہ شخص یہود ونصاری کے مشابہ ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ آدمیوں کو شہر بھیج کر تحقیق کراؤں کہ جن لوگوں کو حج کی طاقت ہے اور انھوں نے حج نہیں کیا ،تاکہ ان پر جزیہ مقرر کردیا جائے۔ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں، ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ جس نے قدرت کے باوجود حج نہیں کیا، اس کے لئے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔ سعید نے اپنی سنن میں روایت کیا

قد روى مسلم في صحيحه عن ابْنَ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَوَىَ عَلَىَ بَعِيرِهِ خَارِجاً إِلَىَ سَفَرٍ، كَبّرَ ثَلاَثاً، ثُمّ قَالَ


ٌسُبْحَانَ الّذِي سَخّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنّا لَهُ مُقْرِنِينَ* وَإِنّا إِلَىَ رَبّنَا لَمُنْقَلِبُونَ. اللّهُمّ إِنّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرّ وَالتّقْوَىَ. وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَىَ. اللّهُمّ هَوّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا. وَاطْوِ عَنّا بُعْدَهُ. اللّهُمّ أَنْتَ الصّاحِبُ فِي السّفَرِ. وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ. اللّهُمّ إِنّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ، فِي الْمَالِ وَالأَهْلِ“. وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنّ. وَزَادَ فِيهِنّ: “آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبّنَا حَامِدُونَ“.


اللہ سب سے زیادہ عظیم ہے ۔ اللہ سب سے زیادہ عظیم ہے۔ اللہ سب سے زیادہ عظیم ہے۔پاک ہے وہ رب جس نے اس سواری کو ہمارے قبضے میں دے دیا اور اس کی قدرت کے بغیر ہم اسے قبضہ میں کرنے والے نہیں تھے اور بلاشبہ ہم کو اپنے رب کی طرف جانا ہے ۔اے اللہ ، ہمآپ سے اس سفر میں نیکی اور تقوی، اور ایسےکامکاسوالکرتےہیںجس میں اپ کی خوشنودی ہو۔


جب آپ سفر کرنا چاہتے ہوں ، تو آپ کے لئے یہ مستحب ہے کہ آپ اس وقت اس سے جس (کے دین ، تجربے اور علم) پر وہ یقین رکھتے ہوں مشورہ لیا کرے۔ مشورہ اس شخص سے لینا چاہیے جو مشورہ کی پیشکش میں مخلص ہو اور نفسانی خواہشات سے بچنا چاہیے ۔ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے کہ  

["اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو"۔ [آل عمران ۳ :١٥٩ 

احادیث صحیحه کےمطابق لوگ اپنے کاموں میں حضور محمّدصلى الله عليه وسلم سے مشاورہ کیا کرتے تھے۔  

جب آپسفر کا آغاز کردیں تو سنّت کے مطابق آپ کو استخارہ کر کے الله کی رضا طلب کرنی چاہیے ۔اس ک لئے آپ کو دو رکعت نماز نفل ادا کر کے استخارہ کی دوا پڑھنی چاہیے ۔

جب آپ حج، عمرہ یا کسی اور غرض سے سفر کرنے کا ارادہ کر لیںتو اسے ابتداءمیںہیآپ کواپنے تمام گناہوں اور مکروہ اعمال سے توبہکرلینی چاہیے ۔ اور آپنےکسیکے ساتھکچھ غلط کیا ہوتو انغلطیوں کی تلافی کر لیں، اور جن لوگوں سے اس نے اُدھار لیا ہے اس کو جتنا ممکن ہو واپس کر لیں، اور جو کچھ بھی آپکے سپرد کیا گیا ہو )یعنیامانتیں) واپس کردیں اور ان سب سے معافی مانگیں جن کے ساتھ کوئی لیندین ہو یا دوستی ہو۔آپ کو اپنی وصیت بھی تیار کرنی چاہئےاور اس وصیت کا کوئی گواہ بھی ہونا چاہئے، آپ کو ایک ایسا شخص بھی متین کرنا چائے جو آپ کی جگہ قرض ادا کردے اگر آپ خود اسکو ادا نہیں کر سکتے۔آپ کو اپنے خاندان اور اہل و عیال کو بھی ساتھ لے جانا چاہئےجن کی کفالت آپ پر فرض ہے جب تک آپ واپس نہیں آتے۔ 

آپ کواپنے ماں باپ کی خوشنودی حاصل کرنی چاہیے اور انکی بھی جن کی عزت اور اطاعت کرنا آپ پر فرض ہے۔ 

جب آپ حج، جہادیا کسی اور غرض سے سفر کررہےہیںتویہ خیال رکھیں کے آپ کا سرمایا حلال ہے اور بداعتمادی سے پاک ہے۔اگر آپ اس کے خلاف جاتے ہیں یا ایسا مال ساتھ رکھتے ہیں جو زور زبردستی سے حاصل کیا گیا ہو یہ مال آپ کے لئے گناہ کا باعث بنجاتا ہے اور اس کے بعد اپ چاہے کتنے ہی آداب کے ساتھ اپنا حج ادا کریں،آپ کا حج مکملنہیں ہوگا.

اگر آپ اپنے ساتھ بہت سارا مال و سامان سفر حج پراس غرض سے لے کے جارہے ہیںکے اس کو غربا میں تقسیم کرینگے تو اسے مستحب کہا جائے گا۔ بشرط یہ کے اپ کا مال و سامان حلال ہو کیوں کے الله عزوجل فرماتے ہیں: 

[مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے۔[ البقرہ ۲۶۷:۲ 

جب آپ حجیا جہادکا ارادہ کریں تو پہلے اس کو ادا کرنے ک آداب اور طریقوں سے اچھی طرح واقف ہوجایں کیوں کے کوئی بھی عبادت تب تک قبول نہیں ہوسکتی جب تک عبادت کرنے والے کو اس کے آداب نہیں آتے۔اگر آپ صفر حج پر اپنے ساتھ کوئی حج کی گائڈ بک رکھتے ہیںتا کہ آپ اس سے حج کے مطالق معلومات لیتے رہیں تو اسے مستحب کہا جائے گا. کیوں کے کچھ لوگوں کو گمان ہوتا ہے کہ وو حج کی شریت میں سے کچھ بھول گئے ہیں یا پھر کچھ لوگ دیگر مکیوں کو عبادتکرتے دیکھ کے ویسے ہی عبادت کرنے لگتے ہیںبغیر جانے کہ وو مکّی سہی عبادت کر بھی رہے ہیں یا نہیں۔اس ہی طرح ایک جہادی کو بھی اپنے ساتھ سفر پی جہاد کی گائیڈ بک رکھنی چائے تا کہ اس کو جہاد ک فرائض، دعااور جہاد سے مطالق دیگر معاملات جیسے عورتوں اور بچوں ک ساتھ سلوک، نواہی پر خیانتوغیرہ، معلوم ہوں۔ اس ہی طرح تاجر کو سفر تجارت ک دوران پتا ہونا چاہئے کہ کون سی تجارت جائز ہے کون سی نا جائزاور کیا حرام ہے اور کیا حلال

یہ بھی مستحب ہے کہ اگر اپ کسیایسے کہ ساتھ ہو لیں جو کہ نیکی کو پسند اور گناہ کو ناپسند کرتا ہو تا کہ جب اپ بھٹک جایں تو وہ اپ کو صحیح راہ پر لے آے . اور اگر وہ علم کی روشنی سے آراستہ ہو توافضلیہہے کہ اسکےساتھ سایا بن کر رہیں تا کہ وو شخص اپ کو ہر برائی سے دور رکھے اور اپ کو اپنے ساتھ اچھے کامو میںمشغول کر لے. آپکو سفر کے دوران اپنے ساتھی کو خوش کرنے کی خواہش مند ہونا چاہئے۔ایک دوسرے کی خیالات کو احترم اور صبر سے سننا چاہئے 

10. آپ کے لئے یہ بھی یہ بھی مستحب ہے کہ اپ اپنے گھر والوں، عزیز و اقارب، دوست و احباب، پڑوسی اور تمام چاہنے والوں کو الوداع کہ کرسفر کے لئے رخصت ہوں اور سب سے کہیں کہ 

أَسْتَـوْدِعُ اللَّهَ ديـنَكَ وَأَمانَتَـكَ، وَخَـواتيـمَ عَمَـلِك 

ترجمہ:میں آپ کے دین اور امانت کو اور تمام اعمال کے اچھے خاتمے کو عزو جل کے سپرد کرتا ہوں

خواتین کو سفر کرنے کے لئے محرم کا ساتھ ہونا لازمی ہے، چاہے سفر چھوٹا ہو یا بڑا۔حضرت ابن ابباس رضي الله عنه سے روایت ہے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کوئی عورت اپنے محرم رشتےدار کے بگیر سفر نے کرے ور کوئی شخص کسی عورت ک پاس اس وقت تک نہ جائے جب تک وہاں اس کا محرم رشیدار موجود نہ ہو"۔ 

اے الله! ہم پر یہ سفر آسان کردے اور اس کی لمبی مسافت ہم پر لپیٹ دے. اے الله! اس سفر میں تو ہی ہمارا (ساتھی ) ہے اور (تو ہی ہمارا) جانشین ہے گھروالوں میں. اے الله! میں سفر کی مشقّت، (اسکے) تکلیف دہ منظر اور مال اور گھروالوں میں بری تبدیلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں.

احادیث نبویہ میں حج بیت اللہ کی خاص اہمیت اور متعدد فضائل احادیث نبویہ میں وارد ہوئے ہیں ، چند احادیث حسب ذیل ہیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج مقبول۔ بخاری ومسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے محض اللہ کی خوشنودی کے لئے حج کیا اور اس دوران کوئی بیہودہ بات یا گناہ نہیں کیا تو وہ (پاک ہوکر) ایسا لوٹتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز (پاک تھا)۔ بخاری ومسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان سرزد ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے۔ بخاری ومسلم

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پے درپے حج وعمرے کیا کرو۔ بے شک یہ دونوں (حج وعمرہ) فقر یعنی غریبی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ ابن ماجہ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا، عمرو کیا ہوا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم کیا شرط رکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا ( گزشتہ) گناہوں کی مغفرت کی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام (میں داخل ہونا) گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے، ہجرت گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ مسلم

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو حاجی سوار ہوکر حج کرتا ہے اس کی سواری کے ہر قدم پر ستّر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو حج پیدل کرتا ہے اس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں سے لکھی جاتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ حرم کی نیکیاں کتنی ہوتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ بزاز، کبیر، اوسط

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمیں معلوم ہے کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے، کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں (عورتوں کے لئے) عمدہ ترین جہاد حج مبرور ہے۔ بخاری

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا عورتوں پر بھی جہاد (فرض) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں خوں ریزی نہیں ہے اور وہ حج مبرور ہے۔ ابن ماجہ

* حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں تو وہ قبول فرمائے، اگر وہ اس سے مغفرت طلب کریں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے۔ ابن ماجہ

* حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اُس کے اپنے گھر میں پہونچنے سے پہلے اس کو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے اپنی مغفرت کی دعا کے لئے کہوکیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت ہوچکی ہے۔ مسند احمد

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حج کی نیکی کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کی نیکی‘ لوگوں کو کھانا کھلانا اور نرم گفتگو کرنا ہے۔ رواہ احمد والطبرانی فی الاوسط وابن خزیمۃ فی صحیحہ۔ مسند احمد اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کی نیکی‘ کھانا کھلانا اور لوگوں کو کثرت سے سلام کرنا ہے ۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کی طرح ہے، یعنی حج میں خرچ کرنے کاثواب سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ مسند احمد

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے عمرے کا ثواب تیرے خرچ کے بقدر ہے یعنی جتنا زیادہ اس پر خرچ کیا جائے گا اتنا ہی ثواب ہوگا۔ الحاکم

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب حاجی لبیک کہتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دائیں اور بائیں جانب جو پتھر، درخت اور ڈھیلے وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی لبیک کہتے ہیں اور اسی طرح زمین کی انتہا تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے (یعنی ہر چیز ساتھ میں لبیک کہتی ہے)۔ ترمذی، ابن ماجہ

جس شخص میں مندرجہ ذیل شراءط پاءیجاتیہوں۔اس پرحج واجب ہوجاتاہے۔

بالغ ہو۔

آزادہو۔

اتناوقتہوکہمکہجاکرتماماعمالِحجبجالاسکے۔

آنےجانےکےلیےسواریاورسفرکےاخراجات (مثلامکہمیںقیاموطعاماورقربانی) موجودہوں۔

جنلوگوںکانانونفقہاسپرواجبہےانہیںاپنیواپسیتککےاخراجاتدینےکےپیسےہوں۔

راستہمحفوظہویعنیراستہمیںجان،مالاورعزتکوکوءیخطرہنہہو۔

رصحتکےاعتبارسےسفرکےقابلہویعنیایسامرضیاکمزورینہہوکہراستےکیمشکلاتبرداشتنہکرسکے۔

حجسےواپسیپراپنےاورگھروالوںکےلیےروزیکماسکے۔

جس شخص میں حج کی فرضیت کی مندرجہ بالا پانچوں شرائط پائی جائیں تو اس پر حج فرض ہے۔اب اس حج کوادا کرنے کا مرحلہ آتا ہے اور حج کی ادائیگی کی بھی مندرجہ ذیل چند شرائط ہیں۔یہ شرائط جس شخص میں پائی جائیں گی اس کے ذمے خود سے حج اداکرنا ضروری ہوگا۔اس صورت میں یہ شخص اپنی جگہ کسی اور کو حج کے لیے نہیں بھیج سکتا ۔

صحت مند ہونا:حج کی ادائیگی کی اولین شرط صحت مند اور تندرست ہونا ہے۔اگر کوئی شخص ایسا بیمار ہے کہ وہ مکہ مکرمہ کا سفر نہیں کر سکتا تواس پر خود سے حج کی ادائیگی فرض نہیں ہے۔

راستے کا پر امن ہونا: اگر راستہ پر امن نہیں ہے تو اس صورت میں بھی اس شخص پر حج کی ادائیگی ضروری نہیں ہے‘لیکن اب چوں کہ ہوائی جہاز جیسی سفری سہولیات میسر ہیں کہ انسان ہزاروں میل کا سفر گھنٹوں میں طے کر لیتا ہے تو اب یہ شرط تقریباً معدوم ہوچکی ہے۔

عورت کے لیے شوہر یا محرم کا ساتھ ہونا: مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ عورت پر حج فرض ہونے کی ایک اضافی شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ شوہر یا محرم ہو۔عورت کا بغیر شوہر یامحرم کے حج کے سفر پر جانا جائز نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا:

لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَ ةٌ اِلاَّ وَمَعَھَا مَحْرَمٌ فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اکْتُتِبْتُ فِیْ غَزْوَةِ کَذَا وَکَذَا، وَخَرَجَتِ امْرَاَتِیْ حَاجَّةً․؟ قَالَ: اذْھَبْ، فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِکَ

کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت نہ کرے اور نہ کوئی عورت سفر کرے مگر اس کے ساتھ محرم ہو۔ ایک آدمی نے کہا :اے اللہ کے رسول!فلاں فلاں غزوہ میں شرکت کے لیے میرا نام لکھ دیا گیا ہے اور میری بیوی حج کی ادائیگی کے لیے نکلی ہے ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر!

نوٹ:ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے کافی کوتاہیاں دیکھنے میں آتی ہیں‘مثلاً عورتیں بغیر محرم کے حج کے لیے چلی جاتیں ہیں۔ ایک عورت کے ساتھ اس کا شوہر یا محرم ہوتا ہے تو دوسری عورت اس عورت کے ساتھ چلی جاتی ہے کہ چلو ایک کے ساتھ تومحرم ہے نا‘ حالاں کہ یہ سراسر غلط ہے۔منہ بولے بھائی محرم نہیں ہوتے ،اس لیے ان کے ساتھ حج پر جانا جائز نہیں ہے۔پاکستانی قانون کے مطابق چوں کہ عورت بغیرمحرم کے نہیں جاسکتی ،اس لیے عورتیں گروپ لیڈر یا کسی غیر محرم کو محرم بنا کر حج پر چلی جاتی ہیں ،ایسا کرنے میں دوگناہ لازم آتے ہیں، ایک غلط بیانی کا اور ایک بغیرمحرم کے حج پر جانے کا۔

عورت کا عدت میں نہ ہونا:عورت کے لیے ایک اوراضافی شرط یہ بھی ہے کہ وہ عدت میں نہ ہو۔ عدت بھی حج کی ادائیگی کے لیے رکاوٹ ہے۔

نوٹ:یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اگر کوئی عورت بغیر محرم کے یا عدت کے دوران حج پر چلی جاتی ہے تو اس صورت میں اس کافرض حج تو ادا ہوجائے گا ‘لیکن بغیر محرم کے یا دورانِ عدت سفر کرنے کا گناہ اس کے سر رہے گا۔

حج کی ادائیگی کا طریقہ بیان کرنے سے پہلے ضرور ی معلوم ہوتا ہے کہ حج کی اقسام بیان کی جائیں۔حج کی تین قسمیں ہیں:

حج اِفراد: اِفراد کے لغوی معنی ہیں:اکیلااور تنہا، جب کہ شرعی اصطلاح میں صرف حج کی نیت سے احرام باندھ کر حج کے افعال و مناسک ادا کرنا اور عمرہ ساتھ نہ ملانا ‘حج اِفراد کہلاتا ہے۔ حج اِفراد کرنے والے کو ”مفرد“ کہا جاتا ہے۔ امام شافعیرحمة الله عليه کے نزدیک ”حج افراد“ افضل ہے۔ اس حوالے سے یہ یاد رکھیں کہ مفرد پر قربانی واجب نہیں‘ مستحب ہے، جب کہ حج کی باقی دونوں اقسام میں قربانی واجب ہوتی ہے۔

حج قران: قران(ق کے کسرہ کے ساتھ) کے لغوی معنی ہیں:دو چیزوں کوباہم ملادینا، جب کہ شرعی اصطلاح میں عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے احرام باندھنا اور ایک ہی احرام کے ساتھ پہلے عمرہ اورپھر حج اداکرنا اور درمیان میں احرام نہ کھولنا‘حج قران کہلاتا ہے۔حج قران کرنے والے کو ”قارن“کہا جاتا ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک حج قران افضل ہے۔

حج تمتعتمتع کے لغوی معنی ہیں:نفع اٹھانا، جب کہ شرعی اصطلاح میں عازمِ حج کا میقات سے پہلے عمرہ کی نیت سے احرام باندھنا اورعمرہ کے افعال ومناسک ادا کر نے کے بعد احرام کھول دینا اور پھر اسی سال حج کے دنوں میں حج کی نیت سے دوبارہ احرام باندھنا اور مناسک حج ادا کرنا‘ حج تمتع کہلاتاہے۔حج تمتع کرنے والے کو ”متمتع“کہا جاتا ہے۔امام امالکرحمة الله عليه کے نزدیک حج تمتع افضل ہے۔

احرام

حالت احرام میں ممنوع کام اور ان کا کفارہ

جسم کے کسی حصے سے بال اکھاڑنا، کاٹنایا مونڈنا۔

ناخن تراشنا۔

خوشبولگانا۔

مرد کا اپنے سرکو ڈھانپنا۔

مرد کے سلے ہوئے کپڑے پہننا، اور عورت کو دستانے اور نقاب پہننا۔ بخاری

نوٹ : اگر ان مذکورہ پانچ ممنوع کاموں میں سے کوئی کام غلطی سے یا بھول کر ہو جائے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے مگر جو جان بوجھ کر ان میں سے کسی کا ارتکاب کرے گا تو اس پر یہ کفارہ ہے

تین دن کے روزے رکھنا یا چھ مسکینو ں کو ایک وقت کا کھانا کھلانا، یا دم دینا ۔

فمن کان منکم مریضا او بہ اذی من راسہ ففدیة من صیام او صدقة او نسک : ال عمران

جنگلی یا میدانی جانوروں کا شکار کرنا یا شکار کرنے میں مدد کرنا، اس کا کفارہ اسی جانورکی مثل صدقہ دینا ہے۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتَلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ، وَ مَنْ قَتَلَہ مِنْکُمْ مُّتَعَمِداً فَجَزَأئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیَا، بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْعَدْلُ ذٰلِکَ صِیَاماً : المائدہ:۹۶

حالت احرام میں منگنی کرنا یا کروانا ، نکاح کرنا یا کروانا اس کا کفارہ صرف توبہ اور استغفار کرناہے۔

لا ینکح المحرم ولا یخطب : مسلم

یوی سے بوس وکنار کرنا اگر انزال نہ ہو تو اس پر توبہ اور استغفار کرنا ہے، اور اگر انزال ہوجائے تو اس کا کفارہ ایک گائے یا اونٹ ذبح کرکے گوشت مکہ کے فقیروں میں تقسیم کرنا ہے۔

بیوی سے ہم بستری کرنا۔۱-اگر یہ ہم بستری ۱۰؍ تاریخ کو جمرہ کبریٰ کو کنکریاں مارنے سے پہلے تھی تو اس کا حج باطل ہو جائے گا۔۲-حج کے بقیہ کام پورے کرے گا۔ ۳-اگلے سال دوبارہ حج کرے گا۔ ۴- ایک اونٹ یا گائے حرم کی حدود میں ذبح کرکے فقرائے مکہ میں تقسیم کرے گا۔ اور اگر ہم بستری ۱۰؍ تاریخ کو جمرہ کبریٰ کو کنکریاں مار نے کے بعد کی ہے تو اس کا حج تو صحیح ہوگا لیکن اس کو دم دینا ہوگا۔ : حاکم، بیہقی، موطا

اَلْحَجُّ اَشُھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ، فَمَنَ فَرَض فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ، وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ، وَ مَا تفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعَلَمُہُ اللہ، وَ تَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَ اتَّقُوْنِ یٰاُولٰي الْاَلْبَابِ : سورۃ البقرۃ : ۱۹۷

نوٹ: اگر کسی خاتون کو حالت احرام میں حیض یا نفاس وغیرہ کا خون آجائے تو وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج اور عمرہ کے باقی تمام ارکان اور واجبات ادا کریں گی۔ (بخاری، مسلم) دوران سفر خواتین حیض کو روکنے کے لئے دوا کا استعمال کرسکتی ہیں اور حالت احرام میں دانتوں کی صفائی کے لئے ٹوتھ برش اور جسم کی صفائی کے لئے صابن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

میقات کےعلاوہ احرام کےواجب میں تین مزید چیزیں شامل ہیں

نیت کرنا

تلبیہ پڑھنا

دوچادریںپہننا

نیتیعنی مکلف ارادہ کرے کہ عمرہ یا حج قربة الی اللہ انجام دوں گا۔ نیت میں معتبر نہیں کہ اعمال کو تفصیل سے جانتا ہو بلکہ اجمالی معرفت بھی کافی ہے۔ لہذا اگر نیت کرتے وقت مثلا عمرہ میں جو کچھ واجب ہے تفصیلا نہ جانتا ہو تو ایک ایک عمل کو رسالہ عملیہ یا قابل اعتماد شخص سے سیکھ کر انجام دینا کافی ہے۔

قصد قربت و قصد اخلاص، جیسا کہ ساری عبادتوں میں ضروری ہیں۔

خاص جگہ سے احرام کی نیت کرنا، اس کی تفصیل میقاتوں میں بیان ہو چکی ہے۔

احرام کو معین کرنا کہ عمرہ کا ہے یا حج کا اور حج کی صورت میں معین کرنا کہ حج تمتع کا ہے یا قران کا اور کسی کی جانب سے حج کر رہا ہو تو نیابت کا قصد کرنا اور کسی جانب سے قصد نہ کرنا ہی کافی ہوگا کہ عبادت خود اس کی جانب سے ہے ۔ اظہر یہ ہے کہ جو حج نذر کی وجہ سے واجب ہوا ہو اس کے ساقط ہونے کے لیے کافی ہے کہ نذر کردہ عمل اس کے انجام شدہ عمل پر منطبق ہو جائے اور اس کا صحیح ہونا حج نذر ہونے پر موقوف نہیں ہے۔ جس طرح اس شخص کیلیے جو حج کرے تو اس حج کو حج اسلام سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے کہ جو حج الاسلام اس پر واجب تھا وہ اس عمل پر جسے یہ بجا لایا ہے منطبق ہو جائے اور مزید کسی قصد کی ضرورت نہیں ہے۔

تلبیہ۔ صحیح عربی میں یہ جملہ کہنا: لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک۔ اِن الحمدَ والنعمۃَ لک والملک لا شریک لک لبیک۔

 talbyah

الفیہ تلبیہ بھی صرف ایک دفعہ پڑھنا واجب ہے ۔ البتہ تکرار مستحب ہے۔ لیکن اسکو ۹ ذی الحجہ کو عرفات کے میدان میں زوال تک پڑھ سکتے ہیں۔اسکے بعد اجازت نہیں

ببعد ازاں وہی ۲۵ باتیں حرام ہو جاءیں گی جنکا تذکرہ کیا جا چکا ہے۔ یہ احرام ۸ ذی الحجہ کو باندھنا بہتر ہے۔

نماز میں تکبیرة الاحرام کی طرح تلبیہ کے الفاظ بھی سیکھنا اور صحیح ادا کرنا ضروری ہے۔ خواہ کسی دوسرے شخص کی مدد سے صحیح ادا کر سکے۔ لیکن اگر کسی کو تلبیہ یاد نہ ہو اور کوئی پڑھانے والا بھی نہ ہو تو جس طرح سے ادا کر سکتا ہو ادا کرے۔ بشرطیکہ اتنا غلط نہ ہو کہ عمومی طور پر تلبیہ ہی نہ سمجھا جائے اور اس صورت میں احوط یہ ہے کہ جمع کرے یعنی دوسری زبان کے حروف مگر عربی زبان میں تلبیہ پڑھے، ترجمہ بھی پڑھے اور کسی کو تلبیہ پڑھنے کے لیے نائب بھی بنائے ۔

کسی حادثے میں گونگا ہونے والا شخص اگر تلبیہ کے الفاط کی کچھ مقدار ادا کر سکتا ہو تو جتنی مقدار تلبیہ کہہ سکتا ہے کہے اور اگر بالکل ادا نہ کر سکتا ہو تو تلبیہ کو دل سے گزارے اور دل سے گزارتے وقت اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دے اور اپنی انگلی سے اس طرح اشارہ کرے کہ گویا الفاظ تلبیہ کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ لیکن وہ شخص جو پیدائشی گونگا ہو یا پیدائشی گونگے کی طرح ہو تو وہ اپنی زبان اور ہونٹوں کو اس طرح حرکت دے جس طرح تلبیہ کہنے والا شخص حرکت دیتا ہے اور اس کے ساتھ انگلی سے بھی اشارہ کرے۔

اگر کوئی احرام کے دو کپڑے پہننے کے بعد اور اس جگہ سے گزرنے سے پہلے جس جگہ تلبیہ کہنے میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے شک کرے کہ تلبیہ کہی ہے یا نہیں تو سمجھے کہ نہیں کہی اور اگر تلبیہ کہنے کے بعد شک کرے کہ صحیح تلیبہ کہی ہے یا نہیں تو سمجھے کہ صحیح تلبیہ کہی ہے۔

مگر انہیں اس لباس کو اتارنے کے بعد پہنا جائے جس کا پہننا احرام والے پر حرام ہے۔ اس سے بچے مستثنی ہیں اور بجے لباس اتارنے میں مقام فخ تک تاخیر کر سکتے ہیں۔ جب کہ وہ اس راستے سے جارہے ہوں ۔

ظاہر یہ ہے کہ ان دو کپڑوں کو پہننے کا کوئی طریقہ معتبر نہیں ہے چنانچہ ایک جس طرح چاہے لنگ کے طور پر استعمال کرے اور دوسرے کو چادر کے طور پر بغل سے نکال کر کندھے پر ڈال لے یا کسی بھی طرح سے اوڑھے اگر چہ احوط یہ ہے کہ جس طرح عام طور پر ان کپڑوں کو استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح استعمال کرے

اگر کوئی مسئلہ نہ جاننے کی بنا پر یا بھول کر قمیض پر احرام باندھ لے تو قمیض اتار دے، اس کا احرام صحیح ہوگا۔ بلکہ اظہر یہ ہے کہ اگر جان بوجھ کر قمیض کے اوپر احرام باندھ لے تب بھی اس کا احرام (قمیض اتارنے کے بعد ) صحیح ہوگا۔ لیکن اگر احرام کے بعد قمیض پہن لے تو اس کا حرام بغیر شک کے صحیح ہے ۔ تاہم لازم ہے کہ قمیض پھاڑ دے اور پاؤں کی طرف سے اتار دے ۔

حالت احرام میں خواہ شروع میں یا بعد میں سردی یا گرمی سے بچنے کے لیے یا کسی دوسری وجہ سے دو کپڑوں سے زیادہ پہننے میں اشکال نہیں ہے۔

8 ذو الحجہ کو نمازِ فجرمکہ میں باجماعت ادا کریں اور غسل یا وضو کر کے احرام باندھ لیں۔ اس کے بعد احرام کے دو رکعت نفل ادا کریں

احرام کے نفل سے فارغ ہو کر حج کی نیت کریں اور یہ دعا پڑھیں: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ ”اے اللہ! میں حج کی نیت کرتا ہوں کرتی ہوں، اس کو میرے لیے آسان فرما اور اسے میری طرف سے قبول فرما“۔اس کے بعد تلبیہ پڑھیں اور دعا کریں ۔اب احرام کی پابندیاں شروع ہو گئیں۔

٭... منیٰ روانگی اوروقوفِ منیٰ :طلوعِ آفتاب کے بعد منیٰ روانہ ہو جائیں۔ 8ذوالحجہ کی ظہر‘ عصر‘ مغرب عشااور فجر کی نمازیں منیٰ میں باجماعت ادا کریں۔

نوٹ:اگرکوئی شخص 8ذوالحجہ کو منیٰ نہیں جاتا اور مکہ مکرمہ میں ہی رہتا ہے اور یہی سے۹ذوالحجہ کو عرفات کے لیے روانہ ہوجاتا ہے تو اس طرح کرنے سے مناسک حج کے حوالے سے تو کوئی خرابی لازم نہیںآ تی، اس لیے کہ8ذوالحجہ کو منیٰ میں حج کا کوئی مناسک ادا نہیں ہوتا، البتہ ا س طرح کرنے سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ شخص اس کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔اس لیے افضل یہی ہے کہ سنت نبوی کی پاس داری کرتے ہوئے 8ذوالحجہ کو منیٰ جائیں اور اگلے دن یہیں سے عرفات کے لیے روانہ ہوں۔

٭...منیٰ میں نمازِ فجر کی ادائیگی كى بعد

٭... میدانِ عرفات روانگی اور وقوفِ عرفہ: طلوعِ آفتاب کے بعد وضو کر کے تلبیہ کہتے ہوئے عرفات روانہ ہو جائیں۔اگرکوئی نمازِ فجر کے بعد اور طلوعِ آفتاب سے پہلے عرفات کی طرف روانہ ہوگیا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ زوال سے سورج غروب ہونے تک میدانِ عرفات میں وقوف کرنا حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔اگر کوئی حاجی زوال سے غروبِ آفتاب تک ایک لمحہ کے لیے بھی عرفات پہنچ گیا تو اس کا حج ہوگیا۔ رسول اللہصلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ((اَلْحَجُّ عَرَفَةُ)) یعنی اصل حج تو عرفہ ہی ہے۔ ٭...دورانِ وقوفِ عرفہ تلبیہ‘دعائیں اور استغفارکرنا:یہ وقت قبولیت ِدعا کا خاص وقت ہے، اس لیے تمام وقت تلبیہ‘ خشوع و خضوع اور گریہ وزاری کے ساتھ دعا اور استغفار میں مشغول رہیں ۔اپنے ماضی کے گناہوں اور کوتاہیوں پر اللہ کے حضور معافی کے اور اپنے مستقبل کے لیے گناہوں سے پاک زندگی کے طالب ہوں۔وقوفِ عرفہ کے موقع پر نبی اکرمصلی الله علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل دعا کو بہترین دعااور بہترین کلمہ قرار دیاہے :

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَا شَرِیْکَ لَہ لَہ الْمُلْکُ وَلَہ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کثرت سے بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں، اس دن اللہ تعالیٰ (اپنے بندوں کے) بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے اُن (حاجیوں) کی وجہ سے فخر کرتے ہیں اور فرشتوں سے پوچھتے ہیں (ذرا بتاؤ تو) یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ۔ مسلم

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: غزوۂ بدر کا دن تو مستثنیٰ ہے اسکو چھوڑکر کوئی دن عرفہ کے دن کے علاوہ ایسا نہیں جس میں شیطان بہت ذلیل ہورہا ہو، بہت راندہ پھر رہاہو، بہت حقیر ہورہا ہو، بہت زیادہ غصہ میں پھر رہا ہو، یہ سب کچھ اس وجہ سے کہ وہ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا کثرت سے نازل ہونا اور بندوں کے بڑے بڑے گناہوں کا معاف ہونا دیکھتا ہے۔مشکوۃ

غروب آفتاب کے وقت مزدلفہ روانگیغروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر‘ تلبیہ کہتے ہوئے مزدلفہ روانہ ہوجائیں۔

وقوفِ مزدلفہ اور نماز مغرب و عشا کی اکٹھی ادائیگی:مزدلفہ پہنچ کرمغرب وعشا کی نمازیں ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ عشا کے وقت میں باجماعت ادا کریں۔ پہلے مغرب کے تین فرض ادا کریں‘ پھر تکبیر تشریق اور تلبیہ پڑھیں۔اس کے بعد ساتھ ہی عشا ادا کریں اور تکبیر تشریق اور تلبیہ پڑھیں۔پھر مغرب کی دو سنتیں‘ پھر عشا کی دو سنتیں اور پھر وتر ادا کریں۔ اگر کسی نے مزدلفہ پہنچنے سے پہلے ہی مغرب کی نماز پڑھ لی تو اس کی نماز نہ ہو گی اور اس کے ذمے مزدلفہ پہنچ کر ماقبل بیان کردہ ترتیب سے دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہو گا۔

مزدلفہ میں ذکر واذکار اور دعا ئیں کرنایہ بڑی فضیلت والی اور مبارک رات ہے ‘اس میں زیادہ سے زیادہ ذکر و تلاوت ‘ تلبیہ اور دُعا وٴں کا اہتمام کریں۔ اس رات اپنے پروردگار کو اس خشوع و خضوع سے یاد کریں کہ دل میں اللہ رب العزت کے علاوہ کسی کی یاد نہ ہو۔بالفاظِ قرآنی

﴿فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰٹکُمْ لبقرة:198

پس اللہ کو یاد کرو مشعر حرام کے نزدیک( مشعر ِحرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میں واقع ہے) اور اس کو ایسے یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت کی ہے۔

مزدلفہ میں نمازِ فجر ادا کرنا:وقوفِ مزدلفہ کی رات دعاوٴں میں مشغول ہو کر گزارنے کے بعد فجر کی نماز اول وقت میں باجماعت ادا کریں۔ پھر سورج نکلنے تک ذکر و اذکار ‘دعا و استغفاراور تلبیہ میں مشغول رہتے ہوئے وہیں وقوف کریں۔

مزدلفہ سے کنکریاں اُٹھانااس دوران مزدلفہ سے کنکریاں اُٹھائیں، جو جمرات کو مارنے کے لیے استعمال کی جا ئیں گی۔ہر حاجی چنے یا کھجور کی گٹھلی کے برابر ستر کنکریاں مزدلفہ سے اٹھا ئے۔

منیٰ روانگی اور جمرئہ عقبہ( بڑے شیطان )کی رمی:طلوعِ آفتاب کے وقت منیٰ روانہ ہو جائیں اور منیٰ پہنچ کر سب سے پہلے جمرئہ عقبہ (بڑے شیطان) کی رمی کیجیے۔ 10 ذو الحجہ کو صرف بڑے شیطان کی رمی کی جاتی ہے ۔ اس دن رمی کا افضل وقت طلوعِ آفتاب سے زوال تک ہے، لیکن اس کا جائز وقت 10 ذوالحجہ کے طلوعِ آفتاب سے لے کر اگلے دن 11ذوالحجہ کے صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے تک ہے۔

رمی کا طریقہ:10 ذوالحجہ کو صرف بڑے شیطان کی، جب کہ اگلے دونوں دن تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ رمی کا سنت طریقہ بھی ذکر کر دیا جائے۔

رمی کا طریقہ یہ ہے کہ سات کنکریاں ہاتھ میں لے کر اس طرح کھڑے ہوں کہ منیٰ آپ کے دائیں جانب اور مکہ مکرمہ بائیں جانب ہو۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑ کر ایک ایک کنکری ستون پر مارتے جائیں( کنکر کا احاطے میں گرنا کافی ہے‘ستون کو لگنا ضروری نہیں)۔ ہر کنکری مارتے وقت ”بسم اللّٰہ اللّٰہ اکبر“ کہیں اور یہ دعا پڑھیں

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا

”اے اللہ! میرے حج کو قبول فرما اور میرے گناہوں کو بخش دے۔“

نوٹ:رمی کے دوران تلبیہ پڑھنا بند کر دیں اور جمرہٴ عقبہ (بڑے شیطان)کی رمی کے بعداُس کے پاس کھڑے ہوکر دعا نہ مانگیں۔

قربانی کرنارمی کے بعد قربانی کیجیے۔قربانی کرنا واجب ہے۔اس قربانی کے لیے تین دن ‘یعنی 10‘11‘12 ذو الحجہ مقرر ہیں۔ ان دنوں میں جب چاہیں قربانی کر لیجیے، جب کہ پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے۔

حلق یا قصر کرواناقربانی کرنے کے بعد مرد پورے سر کے بال منڈوائیں یاپورے سر کے بال انگلی کے پور سے کچھ زیادہ کاٹیں ‘مگر منڈوانا افضل ہے۔ خواتین پورے سر کے بال انگلی کے پور سے کچھ زیادہ کتروائیں ۔ تاہم چوتھائی سر کے بال کٹ جانے کا اطمینان ضرورکرلیں۔ حلق یا قصر کی شرعی حیثیت فرض کی ہے اور اس کے بعد سوائے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے احرام کی باقی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔

نوٹماقبل 10ذوالحجہ کے جوتین مناسک:جمرئہ عقبہ (بڑے شیطان) کی رمی۔ قربانی اور حلق یا قصرذکر کیے ہیں، ان کو اسی ترتیب سے ادا کرنا واجب ہے ۔اگر کسی نے اس ترتیب کے اُلٹ کیا تو اس پر دم لازم ہو گا۔

طوافِ زیارت:حلق یا قصر کے بعد غسل کیجیےپھر سلے ہوئے کپڑے پہن کر یا احرام ہی کی چادروں میں مکہ جا کر طواف کیجیے۔ اس کا وقت حلق سے فارغ ہونے کے بعد 12ذو الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔ افضل یہی ہے کہ10 ذو الحجہ ہی کو کر لیا جائے‘ ورنہ 12ذو الحجہ تک کبھی بھی کیا جاسکتا ہے۔ طوافِ زیارت کی شرعی حیثیت فرض کی ہے۔

صفا و مروہ کی سعی طوافِ زیارت اور دو رکعت نمازِ طواف سے فارغ ہو کر صفا و مروہ کی سعی کریں ۔ صفا مروہ کی سعی کرنا واجب ہے۔

منیٰ واپسی10ذوالحجہ کو مندرجہ بالا تمام افعال و مناسک کی ادائیگی کے بعد منیٰ واپس آجائیں اور رات منیٰ میں ہی گزاریں۔

تینوں جمرات کی رمی :11 ذو الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کریں، بایں طور کہ پہلے جمرئہ اولیٰ (چھوٹا شیطان) کو سات کنکریاں ماریں‘پھر اس کے پاس کچھ دیر قبلہ رخ کھڑے ہوکر دعا مانگیں۔ پھر جمرئہ وسطیٰ (درمیانہ شیطان) کو سات کنکریاں ماریں اور دعا مانگیں۔پھر جمرہٴ عقبہ (بڑا شیطان) کو سات کنکریاں ماریں، لیکن اس کے پاس نہ کھڑے ہو اور نہ دعا مانگیں۔ اس دن رمی کا سنت وقت زوال سے غروب آفتاب سے پہلے تک ہے، جب کہ اس کا جائز وقت زوال سے صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے تک ہے ۔ رمی سے فارغ ہوکرمنیٰ واپس آجائیں۔

تینوں جمرات کی رمی :اس دن بھی زوال کے بعد غروب آفتاب سے پہلے تینوں جمرات کی رمی کریں، جس طرح گزشتہ روز11 ذو الحجہ کو تینوں جمرات کی رمی کی تھی۔

ذوالحجہ کومنیٰ رکنے اور مکہ جانے کا اختیار 13

رکنا یا جانا:12 ذوالحجہ کوجمرات کی رمی سے فارغ ہونے کے بعد حاجی کو اختیار ہے کہ مکہ چلا جائے۔اور اگر وہ مکہ نہیں جاتا اور واپس منیٰ چلا جاتا ہے تو اب اس کے ذمے 13 ذوالحجہ کو بھی زوال کے بعد تینوں جمرا ت کی رمی کرنا لازم ہے(اگر طلوع آفتاب کے بعد زوال سے پہلے رمی کرلے تو بھی جائز ہے)۔ افضل یہی ہے کہ حاجی 13 ذوالحجہ کو بھی منیٰ میں ٹھہرے اور تینوں جمرات کی رمی کر کے پھر مکہ واپس جائے۔اس لیے کہ احادیث میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم حجة الوداع کے موقع پر 12 ذوالحجہ کو جمرات کی رمی کے بعد منیٰ واپس گئے اور پھر13ذوالحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کی اور پھر مکہ روانہ ہوئے۔

مندرجہ بالا افعال و مناسک اداکرنے کے بعد آپ کا حج پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ البتہ ایک طواف رہ گیا جس کا وقت مکہ مکرمہ سے رخصت ہونے کا ہے۔اس کو طوافِ وداع کہا جاتا ہے۔ اس طواف کی شرعی حیثیت واجب کی ہے اور اس کا طریقہ عام نفل طواف کی طرح ہے، یعنی نہ اس میں رمل ہوگا اور نہ ہی اس کے بعد صفا اور مروہ کی سعی ہوگی، البتہ طواف کے دو نفل ضروری ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کو جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے، اس کے لئے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جائے گا اور جو شخص عمرہ کے لئے جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے تو اس کو قیامت تک عمرہ کا ثواب ملتا رہے گا۔ ابن ماجہ

حجتمام عبادتوں کا مجموعہ ہے۔جس نے تمام عبادات کی اصل اساسات اپنے اندر جمع کر لی ہیں۔ خانہ کعبہ ہماری نمازوں کا مرکز ہے۔ وہ سب سے پہلی مسجد ہے،جو اسی مقصد کے لیے بنائی گئی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: میں نے ابراہیم اور ان کی ذریت کو مکہ میں اسی لیے بسایا تھا کہ وہ میرا یہ گھر طواف، قیام اور رکوع کرنے والوں کے لیے پاک رکھیں۔ حج کے لیے، اسی گھر کاقصد کیا جاتا ہے۔ نماز کا مقصد قرآن مجید میں ’اللہ کی یاد‘ بیان ہواہے اورطواف اسی نماز کی وہ صورت ہے، جو صرف خانہ کعبہ کی حاضری ہی میں ادا کی جاتی ہے۔ اس نماز میں شمع و پروانہ کی حکایت کو دہرایا جاتا ہے۔ خدا کے بندے اپنے پروردگار کو پکارتے ہوئے، اس کے گھر کے گرد پروانوں کی طرح گھومتے ہیں۔ زکوٰۃ، خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عبادت ہے۔ حج کا اہتمام اور اس کے زاد راہ کے انتظام میں آدمی جو کچھ خرچ کرتا ہے، وہ اسی جذبے کی تسکین ہے، بلکہ عام آدمی تو اپنے روزمرہ کے اخراجات کم کر کے ہی حج کے مصارف پورے کرنے کا متحمل ہو پاتاہے۔ اس اعتبار سے اس کا جذبۂ انفاق اور بھی زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ روزے کا مقصد تقوٰی کی آب یاری ہے۔یہ اللہ کی طرف بڑھنے، دنیوی خواہشات ترک کرنے اور اللہ کے ساتھ لو لگانے کی عبادت ہے۔ حج، یہ غرض بھی بتمام و کمال پوری کرتا ہے۔ آدمی اپنی ضروریات روک کر حج کے اخراجات کا بندوبست کرتا اور اپنے معاملات و علائق چھوڑ کر اللہ کے گھر کے لیے عازم سفر ہوتاہے۔ اسی طرح ہجرت و جہاد کی عبادت بھی معصیت کی زندگی سے نکلنے اور خدا کی راہ میں سرگرم ہو جانے کے جذبے کا نام ہے۔ حج میں بھی آدمی اپنے پروردگار کے لیے گھر بارچھوڑتا اور حج کے دنوں میں ایک مجاہد کی طرح کبھی پڑاؤ اور کبھی سفر کے مراحل سے گزرتا ہے اور ان میں پیش آنے والی صعوبتیں برداشت کرتاہے۔

حج کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ آیا کسی اور کی طرف سے حج کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟اگر کیا جاسکتا ہے تواس کے احکام کیا ہیں؟اس حوالے سے یہ نوٹ کرلیں کہ اگر کسی شخص میں حج کی فرضیت کی تمام شرائط پائی جائیں، لیکن اس میں حج کی ادائیگی کی کوئی ایک شرط نہ پائی جائے تو اس صورت میں یہ شخص اپنی طرف سے کسی اور کو حج کے لیے بھیج سکتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج خالص بدنی عبادت نہیں‘ بلکہ مالی اور بدنی عبادات کا مجموعہ ہے، اس لیے اس میں کسی دوسرے کی نیابت مجبوری کی حالت میں جائز ہے۔ البتہ نماز اور روزہچوں کہ خالص بدنی عبادات ہیں، اس لیے ان میں کسی کی نیابت مجبوری کی حالت میں بھی جائز نہیں ہے، یعنی نماز یا روزہ کسی کی طرف سے ادانہیں کیا جاسکتا۔

کسی دوسرے کی طرف سے حج کرنے کو فقہی اصطلاح میں حج بدل کہا جاتا ہے ۔حج بدل کے بارے میں چند احکام ملاحظہ ہوں

کوئی نابالغ کسی کی طرف سے حج نہیں کر سکتا۔

جس شخص نے اپنا فرض حج ادا نہیں کیا، اس کا حج بدل کے لیے جانا مکروہ ہے۔

جس شخص کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے، اس کے ذمے سے فرض حج ادا ہوجائے گا۔

جس شخص پر حج فرض ہو اور وہ فوت ہوجائے۔پھر وہ اتنا ما ل چھوڑے کہ اس کے تیسرے حصہ سے حج ادا ہوسکے اور وہ حج کرنے کی وصیت بھی کرے تو وارثوں پر اس میت کی طرف سے حج کرنا فرض ہے۔

جس شخص پر حج فرض تھااور وہ فوت ہوگیا، مگر اس نے اتنا ما ل نہیں چھوڑا یا اس نے حج کرنے کی وصیت نہیں کی تو اس کی طرف سے وارثوں پرحج کرنا فرض نہیں ہے‘لیکن اگر وارث اس کی طرف سے حج کرے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ اس میت کا فرض حج ادا ہوجائے گا۔

جس شخص پر حج فرض نہیں تھا ‘اگر اس کا وارث اس کی طرف سے حج کرے تو مرحوم کو اس حج کا ثواب ان شاء اللہ ضرور پہنچے گا۔

اگر کوئی اتنا بیمار ہے کہ حج کونہیں جا سکتا یا معذور ہے اور اسے اپنے ٹھیک ہونے کی امیدبھی نہیں ہے تو وہ اپنی زندگی میں ہی کسی سے حج کراسکتا ہے۔

اگر کسی عورت میں حج کی فرضیت کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ حج پر جانے کے لیے شوہر یا محرم نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ مرنے سے پہلے حج کی وصیت کرے یا اگر اسے محرم ملنے کا امکان نہ ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی کسی سے حج بدل کرائے۔

اگر انسان صاحب استطاعت ہو تو اسے اپنے مرحوم والدین کی طرف سے حج بدل ضرور کرنا یا کسی سے کروانا چاہیے

عمرہ کی حیثیت چوں کہ نفل کی ہے، اس لیے عمرہ کسی کا نام لے کر بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کا ثواب بھی کسی کو پہنچایا جاسکتا ہے۔اس میں حج بدل کی طرح مجبوری بھی شرط نہیں ہے۔

:کعبہ

کعبہ، یا خانہ کعبہ ، قبلہ ، یا بیت اللہ ، اللہ کا گھر جس کا حج اور طواف کرتے ہیں ، ساری دنیا کے مسلمان جس کی طرف کو منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں،اور جس مسجد میں یہ گھر واقع ہے اس کو مسجد حرام یا حرم شریف کہتے ہیں۔

:رکن یمانی

کعبہ کا جنوب مغربی کونہ جو یمن کی طرف واقع ہے ۔

:حجر اسود

کالا پتھر جو جنت سے آیا ہو ہے ، اس کا رنگ دودھ کی طرح سفید تھا ،لیکن بنی آدم کے گناہوں نے اس کو سیاہ کر دیا ، یہ بیت اللہ کے جنو ب مشرقی کونے میں چاندی کے حلقہ میں پیوست کر کے لگایا ہوا ہے ۔

:ملتزم

حجرے اسود اور بیت اللہ کے دروازے کے ما بین دیوار جس پر لپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے ۔

:حطیم

خانہ کعبہ کی شمالی جانب زمین کا وہ حصہ ہے جو چھوٹی دیوار سے باونڈری کی ہو ئی ہے جس کے اندر سے گزر کرطواف نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس کے اندر نماز پڑھنا کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے مساوی ہے ۔

:میزاب رحمت

حطیم کے اندر کعبہ کے اوپر سے گرنے والا پر نالہ جہاں دعا قبول ہوتی ہے۔

:مقام ابراہیم

یہ جنت سے آیا ہوا وہ پتھر جس کے اوپر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں فرمایا ہے

واتخذو من مقامِ ابراھیم مصلیٰ : البقر

:مطاف

کعبہ کے چاروں طرف کی جگہ جہاں طواف کیا جاتا ہے ۔

حرم شریف کے اندر پانی کا کنواں جس کا پانی پینا ثواب اور بہت سی بیماریوں کے لئے باعث شفا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہی فائدہ اس سے حاصل ہوتا ہے۔ ابن ماجہ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روئے زمین پر سب سے بہتر پانی زمزم ہے جو بھوکے کے لئے کھانا اور بیمار کے لئے شفا ہے۔ طبرانی

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زمزم کا پانی (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ) لے جایا کرتی تھیں اور فرماتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لے جایا کرتے تھے

صفا و مروہ دو پھاڑ ہیں جن کے درمیان حضرت حاجرہ رحمت الله الیہ سات مرتبہ پانی کی تلاش میں سرگداں ہوئیںھیں تا کہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل عالیہ سلام کی پیاس بھجا سکیں۔وہ حضرت ابراہیم ( A.S ) کی بیوی تھیں۔ تمام لوگ جو یہاں حج یا عمرہ کرنے آتے ہیں اسہی طرحسات بار دوڑتے ہیں، یہ عمل سعیٰ کہلاتا ہے۔١٠٦٩ ھ تک چونکے مسجد الحرام میں کوئی اضافہ اور توسیع نہیں کی گئی تھی. اس لئے اس پاس کی مکّہ کی آبادیاں مسجد الحرام کے ساتھ آ کر مل گئی تھیں اور مسعیٰ کے دونوں جانب تعمیرات ہونے سے یہ حصّہ الگ تھلگ ہوگیا تھا اور قریب ہی رہائشی مکان اور بازار ہونے کی وجہ سے خریدو فروخت کی باعث سعیٰ کرنے والوں کے لئے رکاوٹ پیدا ہوتی تھی

جب حضرت ابراہیم عليه السلام حضرت هاجره ور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل عليه السلام کو مکّہ کی وادی میں تنہا الله پاک کے بھروسے چھوڑ کر چلے گئے تو حضرت هاجره اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل عليه السلام کو بہت مشکلات درپیش آئین اور جب حضرت اسماعیل عليه السلام پیاس سے نڈھال ہوگیئے تو حضرت هاجره نے انھیں ایک جگہ زمین پی ڈالا اور خود ایک پہاڑ پہچڑہیںاور ادھر اُدھر نگاہدوڑایئجب بچہ نظر سے اوجھل ہُوا تو درمیان سے پِھر چوٹی پہ گئیں اور ایک نگاہ بّچے پہ ڈالی پِھر وہاں سے مروا کی طرف دور لگائی اِس طرح 7 چکر صفا اور مروا کے درمیان لگائے آخر تھک کر وہیں بیٹھ گئیں اور حمت جواب دے گئی تو سوچا کہ اب تبھی واپس جاؤنگی جب بچہ جان دے دیگا کے نظروں کے سامنے اسے بھوکا مرتا نہیں دیکھ سکتی تھیں کہ اچانک دور سے ایک سفید رنگ کے کپڑوں میں بزرگ نظر آئے جو بچے کی طرف آرہے تھے تو پِھر ساری ہمت کو مجتمع کیا اور واپس بھاگیں ۔ جب نیچے تو کیا دیکھتی ہیں کہجہاں بچے ہے وہاں سے ایک چشمہ جاری ہو گیا اور بزرگ اوجھلہوگےئتھے۔ حضرت ھاجرہ نے کہا زم زم، زم زم (ا مطلب رک جا ،رک جا ) تو چشمہ رک گیا . نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :اللہ رحم کرے اسماعیل عليه السلامکی ماں پر ورنہ اگر وہ زم زم نا کہتیں تو پورے عرب میں دریا جاری ہوجانا تھا آپ نے وہ پانی خود بھی پیا اور بچے کو بھی پلایا اور اللہ پاک کا شکر ادا کیا

یہ بات بالکل واضح ہے کہ حج مکہ مکرمہ میں ہی پورا ہوجاتا ہے ۔ لیکن جس شخص کو اللہ تعالٰی نے حج کی عظیم سعادت نصیب فرمائی ہو تو وہ مدینہ نبویہ کی زیارت سے کیوں محروم رہے ۔ یہ اللہ کے پیارے رسولؐ کا شہر ہے جہاں کے لوگوں نے آپ ؐکا گرم جوشی اور تہہ دل سے استقبال کیا آپؐ پر اپنا جان و مال سب کچھ قربان کردیا اور یہاں سے ہی اسلامی فتوحات اور اسلام کی نشر واشاعت کی شروعات ہوئیں ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شہر کی محبت کے لئے دعا فرمائی

(اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃِ کَحُبِّنَا مَکَّۃ اَوْ اَشَدُّ (متفق علیہ

توفیق ہو تو مسجد نبوی کی زیارت کی نیت کریں ۔

آپ ؐ نے فرمایا

(لا تَشُدُ الرِحال إلاإلی ثَلاثَة مَساجِد ، المسجد الحرام ، ومسجدي ھذا ، والمسجد الأقصی (متفق علیہ

ترجمہ آپ ؐ نے فر مایا : (کہ دینی ہدف کےلئے) سفر تین مسجدوں کے علاوہ کہیں کا نہ کیا جائے

مسجدحرام ، اور یہ میری مسجد ، اور مسجد اقصٰی ۔

مدینہ منورہ کے دوران قیام جہاں تک ممکن ہو ساری نمازیں باجماعت اور تمام سنتیں اور نوافل مسجد نبوی میں ادا کریں اس کی بڑی فضیلت ہے ۔ آپ ؐ نے فرمایا ۔

صَلاة فی مَسجدی ھَذا أفضل مِن ألف صَلاة فِیما سِواہ الا المسجد الحرام و صلاة فی المسجد الحرام افضل من مائة ألف صلاة فیما سواہ متفق علیہ

ترجمہ : میری اس مسجد میں نماز پڑھنا مسجد حرام کے علاوہ تمام مساجد سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے ۔

نبی اکر مؐکی قبرکی زیارت کریں انتہائی ادب واحترام کے ساتھ دھیمی آواز میں سلام کہیں اور درود پڑھیں۔

(إِنَّ اللہ وَمَلائکتہ یُصلون عَلی النَّبی یا آیھا الذین آمنو صَلواعَلیہ وَسَلمِّوا تَسلِیما ( سورة الاحزاب آیة ۵

ترجمہ: اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتے ہیں اے ایمان والوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجو۔

آپ نے فرمایا

من صلی علی صلاة واحدة صلی اللہ علیہ بھا عشر امام مسلم

ترجمہ: جس نے مجھ پر ایک بار سلام بھیجا اللہ تعالیٰ نے ا س پر دس بار سلام بھیجا۔

اس کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سلام پڑھیں اور پھر سیدنا عمر بن خطاب پر سلام پڑھیں۔

اس جگہ کی فضیلت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

(ما بین بیتی و منبری روضہ من ریاض الجنةء (متفق علیہ

آپ نے فرمایا: میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔

مدینہ سے واپسی میں دو رکعت نماز نفل پڑھنی چاہیۓ اور الله پاک کا شکرانہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اپنے گھر اور اپنے محبوبؐ کےگھر کی زیارت کا موقع دیا. اس کے علاوہ دوبارہ حج یا عمرہ کرنے کی دعا بھی کرنی چاہیے اور دعا میں اپنے لئے خیر و عافیت مانگ کر اپنی منزل لوٹ جانا چاہیے

hajj guide in urdu
  • ۱۳: ذو الحجہ

    ۱۳: ذو الحجہ

    مندرجہ بالا افعال و مناسک اداکرنے کے بعد آپ کا حج پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ البتہ ایک طواف رہ گیا جس کا وقت مکہ مکرمہ سے رخصت ہونے کا ہے۔اس کو طوافِ وداع کہا جاتا ہے۔ اس طواف کی شرعی حیثیت واجب کی ہے اور اس کا طریقہ عام نفل طواف کی طرح ہے، یعنی نہ اس میں رمل ہوگا اور نہ ہی اس کے بعد صفا اور مروہ کی سعی ہوگی، البتہ طواف کے دو نفل ضروری ہیں۔

  • ۱۲: ذو الحجہ

    ۱۲: ذو الحجہ

    تینوں جمرات کی رمی :اس دن بھی زوال کے بعد غروب آفتاب سے پہلے تینوں جمرات کی رمی کریں، جس طرح گزشتہ روز11 ذو الحجہ کو تینوں جمرات کی رمی کی تھی۔

    ذوالحجہ کومنیٰ رکنے اور مکہ جانے کا اختیار ۱۳

    رکنا یا جانا:۱۲ ذوالحجہ کوجمرات کی رمی سے فارغ ہونے کے بعد حاجی کو اختیار ہے کہ مکہ چلا جائے۔اور اگر وہ مکہ نہیں جاتا اور واپس منیٰ چلا جاتا ہے تو اب اس کے ذمے ۱۳ ذوالحجہ کو بھی زوال کے بعد تینوں جمرا ت کی رمی کرنا لازم ہے(اگر طلوع آفتاب کے بعد زوال سے پہلے رمی کرلے تو بھی جائز ہے)۔ افضل یہی ہے کہ حاجی ۱۳ ذوالحجہ کو بھی منیٰ میں ٹھہرے اور تینوں جمرات کی رمی کر کے پھر مکہ واپس جائے۔اس لیے کہ احادیث میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم حجة الوداع کے موقع پر ۱۲ ذوالحجہ کو جمرات کی رمی کے بعد منیٰ واپس گئے اور پھر ۱۳ ذوالحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کی اور پھر مکہ روانہ ہوئے۔

    مکہ واپسی پر وادیٴ محصب میں جانا

    ۱۲یا۱۳ ذوالحجہ کو جب حاجی مکہ کی طرف واپسی کا کوچ کرے تو اس کو چاہیے کہ منیٰ اور مکہ کے درمیان وادیٴ محصب میں کچھ دیر قیام کرے، اس لیے کہ نبی اکرمصلی الله علیہ وسلم نے اس جگہ پر کچھ دیر قیام کیا تھا۔یہاں کچھ دیر قیام کرنا سنت ہے۔

  • ۱۱: ذو الحجہ

    ۱۱: ذو الحجہ

    تینوں جمرات کی رمی :۱۱ ذو الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کریں، بایں طور کہ پہلے جمرئہ اولیٰ (چھوٹا شیطان) کو سات کنکریاں ماریں‘پھر اس کے پاس کچھ دیر قبلہ رخ کھڑے ہوکر دعا مانگیں۔ پھر جمرئہ وسطیٰ (درمیانہ شیطان) کو سات کنکریاں ماریں اور دعا مانگیں۔پھر جمرہٴ عقبہ (بڑا شیطان) کو سات کنکریاں ماریں، لیکن اس کے پاس نہ کھڑے ہو اور نہ دعا مانگیں۔ اس دن رمی کا سنت وقت زوال سے غروب آفتاب سے پہلے تک ہے، جب کہ اس کا جائز وقت زوال سے صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے تک ہے ۔ رمی سے فارغ ہوکرمنیٰ واپس آجائیں۔

  • ۱۰: ذو الحجہ

    ۱۰: ذو الحجہ

    مزدلفہ میں نمازِ فجر ادا کرنا:وقوفِ مزدلفہ کی رات دعاوٴں میں مشغول ہو کر گزارنے کے بعد فجر کی نماز اول وقت میں باجماعت ادا کریں۔ پھر سورج نکلنے تک ذکر و اذکار ‘دعا و استغفاراور تلبیہ میں مشغول رہتے ہوئے وہیں وقوف کریں۔

    نوٹ:مزدلفہ میں جبل قُزح کے قریب وقوف کریں، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بھی اسی پہاڑ کے قریب وقوف کیا تھا۔

    مزدلفہ سے کنکریاں اُٹھانااس دوران مزدلفہ سے کنکریاں اُٹھائیں، جو جمرات کو مارنے کے لیے استعمال کی جا ئیں گی۔ہر حاجی چنے یا کھجور کی گٹھلی کے برابر ستر کنکریاں مزدلفہ سے اٹھا ئے۔

    منیٰ روانگی اور جمرئہ عقبہ( بڑے شیطان )کی رمی:طلوعِ آفتاب کے وقت منیٰ روانہ ہو جائیں اور منیٰ پہنچ کر سب سے پہلے جمرئہ عقبہ (بڑے شیطان) کی رمی کیجیے۔ ۱۰ ذو الحجہ کو صرف بڑے شیطان کی رمی کی جاتی ہے ۔ اس دن رمی کا افضل وقت طلوعِ آفتاب سے زوال تک ہے، لیکن اس کا جائز وقت 10 ذوالحجہ کے طلوعِ آفتاب سے لے کر اگلے دن 11ذوالحجہ کے صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے تک ہے۔

    رمی کا طریقہ:۱۰ ذوالحجہ کو صرف بڑے شیطان کی، جب کہ اگلے دونوں دن تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ رمی کا سنت طریقہ بھی ذکر کر دیا جائے۔

    رمی کا طریقہ یہ ہے کہ سات کنکریاں ہاتھ میں لے کر اس طرح کھڑے ہوں کہ منیٰ آپ کے دائیں جانب اور مکہ مکرمہ بائیں جانب ہو۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑ کر ایک ایک کنکری ستون پر مارتے جائیں( کنکر کا احاطے میں گرنا کافی ہے‘ستون کو لگنا ضروری نہیں)۔ ہر کنکری مارتے وقت ”بسم اللّٰہ اللّٰہ اکبر“ کہیں اور یہ دعا پڑھیں

    اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا

    ”اے اللہ! میرے حج کو قبول فرما اور میرے گناہوں کو بخش دے۔“

    نوٹ:رمی کے دوران تلبیہ پڑھنا بند کر دیں اور جمرہٴ عقبہ (بڑے شیطان)کی رمی کے بعداُس کے پاس کھڑے ہوکر دعا نہ مانگیں۔

    قربانی کرنارمی کے بعد قربانی کیجیے۔قربانی کرنا واجب ہے۔اس قربانی کے لیے تین دن ‘یعنی ۱۰‘۱۱‘۱۲ ذو الحجہ مقرر ہیں۔ ان دنوں میں جب چاہیں قربانی کر لیجیے، جب کہ پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے۔

    حلق یا قصر کرواناقربانی کرنے کے بعد مرد پورے سر کے بال منڈوائیں یاپورے سر کے بال انگلی کے پور سے کچھ زیادہ کاٹیں ‘مگر منڈوانا افضل ہے۔ خواتین پورے سر کے بال انگلی کے پور سے کچھ زیادہ کتروائیں ۔ تاہم چوتھائی سر کے بال کٹ جانے کا اطمینان ضرورکرلیں۔ حلق یا قصر کی شرعی حیثیت فرض کی ہے اور اس کے بعد سوائے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے احرام کی باقی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔

    نوٹماقبل ۱۰ ذوالحجہ کے جوتین مناسک:جمرئہ عقبہ (بڑے شیطان) کی رمی۔ قربانی اور حلق یا قصرذکر کیے ہیں، ان کو اسی ترتیب سے ادا کرنا واجب ہے ۔اگر کسی نے اس ترتیب کے اُلٹ کیا تو اس پر دم لازم ہو گا۔

    طوافِ زیارت:حلق یا قصر کے بعد غسل کیجیےپھر سلے ہوئے کپڑے پہن کر یا احرام ہی کی چادروں میں مکہ جا کر طواف کیجیے۔ اس کا وقت حلق سے فارغ ہونے کے بعد 12ذو الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔ افضل یہی ہے کہ ۱۰ ذو الحجہ ہی کو کر لیا جائے‘ ورنہ 12ذو الحجہ تک کبھی بھی کیا جاسکتا ہے۔ طوافِ زیارت کی شرعی حیثیت فرض کی ہے۔

    صفا و مروہ کی سعی طوافِ زیارت اور دو رکعت نمازِ طواف سے فارغ ہو کر صفا و مروہ کی سعی کریں ۔ صفا مروہ کی سعی کرنا واجب ہے۔

    نوٹاگر حاجی نے مکہ آنے کے بعد طواف قدوم(یعنی استقبالی طواف)کیا اور اس طواف میں رمل (طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑکر چلنا)بھی کیا اور اس کے بعد صفا ومروہ کی سعی بھی کی تو اب اس حاجی کے لیے طواف زیارت میں نہ تو رمل ہے اور نہ اس پر سعی واجب ہے۔ اور اگر حاجی نے مکہ آنے کے بعد طواف قدوم نہیں کیا تو اب وہ طواف زیارت میں رمل بھی کرے گا اور اس کے بعد سعی کرنا بھی اس پر واجب ہے۔

    منیٰ واپسی۱۰ ذوالحجہ کو مندرجہ بالا تمام افعال و مناسک کی ادائیگی کے بعد منیٰ واپس آجائیں اور رات منیٰ میں ہی گزاریں۔

  • ۹: ذو الحجہ

    ۹: ذو الحجہ

    منیٰ میں نمازِ فجر کی ادائیگی اور تکبیر تشریق:9 ذو الحجہ کو نمازِ فجر منیٰ میں ادا کریں۔ ۹ ذو الحجہ کی نمازِ فجر سے ۱۳ ذو الحجہ کی نمازِعصر تک ہر نماز کے بعد تکبیر تشریق کہناواجب ہے، اس لیے حاجی اور غیر حاجی دونوں کو چاہیے کہ وہ ہر نماز کے بعد تکبیر تشریق کہے

    میدانِ عرفات روانگی اور وقوفِ عرفہ: طلوعِ آفتاب کے بعد غسل (جو کہ سنت ہے)یا وضو کر کے تلبیہ کہتے ہوئے عرفات روانہ ہو جائیں۔اگرکوئی نمازِ فجر کے بعد اور طلوعِ آفتاب سے پہلے عرفات کی طرف روانہ ہوگیا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ زوال سے سورج غروب ہونے تک میدانِ عرفات میں وقوف کرنا حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔اگر کوئی حاجی زوال سے غروبِ آفتاب تک ایک لمحہ کے لیے بھی عرفات پہنچ گیا تو اس کا حج ہوگیا۔ رسول اللہصلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ((اَلْحَجُّ عَرَفَةُ)) یعنی اصل حج تو عرفہ ہی ہے۔

    نوٹ:وقوفِ عرفہ کے موقع پر”جبل رحمت“کے پاس وقوف کریں، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بھی اس پہاڑ کے پاس وقوف کیا تھا۔

    دورانِ وقوفِ عرفہ تلبیہ‘دعائیں اور استغفارکرنا:یہ وقت قبولیت ِدعا کا خاص وقت ہے، اس لیے تمام وقت تلبیہ‘ خشوع و خضوع اور گریہ وزاری کے ساتھ دعا اور استغفار میں مشغول رہیں ۔اپنے ماضی کے گناہوں اور کوتاہیوں پر اللہ کے حضور معافی کے اور اپنے مستقبل کے لیے گناہوں سے پاک زندگی کے طالب ہوں۔وقوفِ عرفہ کے موقع پر نبی اکرمصلی الله علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل دعا کو بہترین دعااور بہترین کلمہ قرار دیاہے :

    ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَا شَرِیْکَ لَہ لَہ الْمُلْکُ وَلَہ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ “

    عرفات میں نمازِ ظہر و عصر کی اکٹھی ادائیگی:عرفات کی مسجد نمرہ میں نمازِظہر وعصر ‘ ظہر کے وقت میں ایک ساتھ باجماعت ادا کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ امام پہلے دو خطبے دے، جس میں حج کے مناسک کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دے اور دو خطبوں کے درمیان جمعہ کے خطبوں کی طرح بیٹھے۔ خطبہ سے فارغ ہوکر موٴذن نمازِ ظہر کی اقامت کہے اور امام ظہر کی نماز پڑھائے۔پھر موٴذن نمازِ عصر کے لیے اقامت کہے اور امام عصر کی نماز پڑھائے۔اگر کسی نے ظہر کی نماز اپنے خیمہ میں اکیلے ادا کی تو وہ ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی ادا نہیں کرے گا، بلکہ وہ ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں اور عصر کی نماز عصر کے وقت میں اداکرے گا۔

    غروب آفتاب کے وقت مزدلفہ روانگی:غروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر‘ تلبیہ کہتے ہوئے مزدلفہ روانہ ہوجائیں۔

    وقوفِ مزدلفہ اور نماز مغرب و عشا کی اکٹھی ادائیگی:مزدلفہ پہنچ کرمغرب وعشا کی نمازیں ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ عشا کے وقت میں باجماعت ادا کریں۔ پہلے مغرب کے تین فرض ادا کریں‘ پھر تکبیر تشریق اور تلبیہ پڑھیں۔اس کے بعد ساتھ ہی عشا ادا کریں اور تکبیر تشریق اور تلبیہ پڑھیں۔پھر مغرب کی دو سنتیں‘ پھر عشا کی دو سنتیں اور پھر وتر ادا کریں۔ اگر کسی نے مزدلفہ پہنچنے سے پہلے ہی مغرب کی نماز پڑھ لی تو اس کی نماز نہ ہو گی اور اس کے ذمے مزدلفہ پہنچ کر ماقبل بیان کردہ ترتیب سے دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہو گا۔

    نوٹوقوفِ عرفہ کے دوران اگر حاجی بغیر جماعت کے اپنے خیموں میں نماز پڑھیں تو ان کے لیے حکم تھا کہ وہ ظہر کو ظہر کے وقت میں اور عصر کو عصر کے وقت میں ادا کریں‘لیکن وقوفِ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں اکٹھی عشا کے وقت ادا کرنی ہیں، چاہے جماعت کے ساتھ پڑھیں یا الگ الگ۔

    مزدلفہ میں ذکر واذکار اور دعا ئیں کرنایہ بڑی فضیلت والی اور مبارک رات ہے ‘اس میں زیادہ سے زیادہ ذکر و تلاوت ‘ تلبیہ اور دُعا وٴں کا اہتمام کریں۔ اس رات اپنے پروردگار کو اس خشوع و خضوع سے یاد کریں کہ دل میں اللہ رب العزت کے علاوہ کسی کی یاد نہ ہو۔بالفاظِ قرآنی:

    ﴿فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰٹکُمْ البقرة:۱۹۸

    ”پس اللہ کو یاد کرو مشعر حرام کے نزدیک( مشعر ِحرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میں واقع ہے) اور اس کو ایسے یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت کی ہے۔“

  • ۸: ذو الحجہ

    ۸: ذو الحجہ

    میقات سے احرام باندھنا: ۸ ذو الحجہ کو نمازِ فجرمکہ میں باجماعت ادا کریں اور غسل یا وضو کر کے میقات جا کر احرام باندھ لیں۔ اس کے بعد احرام کے دو رکعت نفل ادا کریں۔سعی ارکان حج میں سے ایک رکن ہے لہذا اگر کوئی مسئلہ نہ جانتے ہوئے یا خود سعی کے بارے میں علم نہ رکھنے کی وجہ سے جان بوجھ کر سعی کو اس وقت تک ترک کردے کہ اعمال عمرہ کو عرفہ کے دن زوال آفتاب سے پہلے تک انجام دینا ممکن نہ ہو تو اس کا حج باطل ہے۔

    حج کی نیت کرنا اور تلبیہ پڑھنا: احرام کے نفل سے فارغ ہو کر حج کی نیت کریں اور یہ دعا پڑھیں: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ ”اے اللہ! میں حج کی نیت کرتا ہوں کرتی ہوں، اس کو میرے لیے آسان فرما اور اسے میری طرف سے قبول فرما“۔اس کے بعد تلبیہ پڑھیں اور دعا کریں ۔اب احرام کی پابندیاں شروع ہو گئیں۔

    منیٰ روانگی اوروقوفِ منیٰ :طلوعِ آفتاب کے بعد منیٰ روانہ ہو جائیں۔ ۸ ذوالحجہ کی ظہر‘ عصر‘ مغرب اورعشا کی نمازیں منیٰ میں باجماعت ادا کریں

    نوٹ:اگرکوئی شخص ۸ ذوالحجہ کو منیٰ نہیں جاتا اور مکہ مکرمہ میں ہی رہتا ہے اور یہی سے۹ذوالحجہ کو عرفات کے لیے روانہ ہوجاتا ہے تو اس طرح کرنے سے مناسک حج کے حوالے سے تو کوئی خرابی لازم نہیںآ تی، اس لیے کہ8ذوالحجہ کو منیٰ میں حج کا کوئی مناسک ادا نہیں ہوتا، البتہ ا س طرح کرنے سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ شخص اس کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔اس لیے افضل یہی ہے کہ سنت نبوی کی پاس داری کرتے ہوئے ۸ ذوالحجہ کو منیٰ جائیں اور اگلے دن یہیں سے عرفات کے لیے روانہ ہوں۔

  • ۸: ذو الحجہ

    ۸: ذو الحجہ

    میقات سے احرام باندھنا: ۸ ذو الحجہ کو نمازِ فجرمکہ میں باجماعت ادا کریں اور غسل یا وضو کر کے میقات جا کر احرام باندھ لیں۔ اس کے بعد احرام کے دو رکعت نفل ادا کریں۔سعی ارکان حج میں سے ایک رکن ہے لہذا اگر کوئی مسئلہ نہ جانتے ہوئے یا خود سعی کے بارے میں علم نہ رکھنے کی وجہ سے جان بوجھ کر سعی کو اس وقت تک ترک کردے کہ اعمال عمرہ کو عرفہ کے دن زوال آفتاب سے پہلے تک انجام دینا ممکن نہ ہو تو اس کا حج باطل ہے۔

    حج کی نیت کرنا اور تلبیہ پڑھنا: احرام کے نفل سے فارغ ہو کر حج کی نیت کریں اور یہ دعا پڑھیں: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ ”اے اللہ! میں حج کی نیت کرتا ہوں کرتی ہوں، اس کو میرے لیے آسان فرما اور اسے میری طرف سے قبول فرما“۔اس کے بعد تلبیہ پڑھیں اور دعا کریں ۔اب احرام کی پابندیاں شروع ہو گئیں۔

    منیٰ روانگی اوروقوفِ منیٰ :طلوعِ آفتاب کے بعد منیٰ روانہ ہو جائیں۔ ۸ ذوالحجہ کی ظہر‘ عصر‘ مغرب اورعشا کی نمازیں منیٰ میں باجماعت ادا کریں

    نوٹ:اگرکوئی شخص ۸ ذوالحجہ کو منیٰ نہیں جاتا اور مکہ مکرمہ میں ہی رہتا ہے اور یہی سے۹ذوالحجہ کو عرفات کے لیے روانہ ہوجاتا ہے تو اس طرح کرنے سے مناسک حج کے حوالے سے تو کوئی خرابی لازم نہیںآ تی، اس لیے کہ8ذوالحجہ کو منیٰ میں حج کا کوئی مناسک ادا نہیں ہوتا، البتہ ا س طرح کرنے سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ شخص اس کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔اس لیے افضل یہی ہے کہ سنت نبوی کی پاس داری کرتے ہوئے ۸ ذوالحجہ کو منیٰ جائیں اور اگلے دن یہیں سے عرفات کے لیے روانہ ہوں۔

  • ۹: ذو الحجہ

    ۹: ذو الحجہ

    منیٰ میں نمازِ فجر کی ادائیگی اور تکبیر تشریق:9 ذو الحجہ کو نمازِ فجر منیٰ میں ادا کریں۔ ۹ ذو الحجہ کی نمازِ فجر سے ۱۳ ذو الحجہ کی نمازِعصر تک ہر نماز کے بعد تکبیر تشریق کہناواجب ہے، اس لیے حاجی اور غیر حاجی دونوں کو چاہیے کہ وہ ہر نماز کے بعد تکبیر تشریق کہے

    میدانِ عرفات روانگی اور وقوفِ عرفہ: طلوعِ آفتاب کے بعد غسل (جو کہ سنت ہے)یا وضو کر کے تلبیہ کہتے ہوئے عرفات روانہ ہو جائیں۔اگرکوئی نمازِ فجر کے بعد اور طلوعِ آفتاب سے پہلے عرفات کی طرف روانہ ہوگیا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ زوال سے سورج غروب ہونے تک میدانِ عرفات میں وقوف کرنا حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔اگر کوئی حاجی زوال سے غروبِ آفتاب تک ایک لمحہ کے لیے بھی عرفات پہنچ گیا تو اس کا حج ہوگیا۔ رسول اللہصلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ((اَلْحَجُّ عَرَفَةُ)) یعنی اصل حج تو عرفہ ہی ہے۔

    نوٹ:وقوفِ عرفہ کے موقع پر”جبل رحمت“کے پاس وقوف کریں، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بھی اس پہاڑ کے پاس وقوف کیا تھا۔

    دورانِ وقوفِ عرفہ تلبیہ‘دعائیں اور استغفارکرنا:یہ وقت قبولیت ِدعا کا خاص وقت ہے، اس لیے تمام وقت تلبیہ‘ خشوع و خضوع اور گریہ وزاری کے ساتھ دعا اور استغفار میں مشغول رہیں ۔اپنے ماضی کے گناہوں اور کوتاہیوں پر اللہ کے حضور معافی کے اور اپنے مستقبل کے لیے گناہوں سے پاک زندگی کے طالب ہوں۔وقوفِ عرفہ کے موقع پر نبی اکرمصلی الله علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل دعا کو بہترین دعااور بہترین کلمہ قرار دیاہے :

    ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ لَا شَرِیْکَ لَہ لَہ الْمُلْکُ وَلَہ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ “

    عرفات میں نمازِ ظہر و عصر کی اکٹھی ادائیگی:عرفات کی مسجد نمرہ میں نمازِظہر وعصر ‘ ظہر کے وقت میں ایک ساتھ باجماعت ادا کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ امام پہلے دو خطبے دے، جس میں حج کے مناسک کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دے اور دو خطبوں کے درمیان جمعہ کے خطبوں کی طرح بیٹھے۔ خطبہ سے فارغ ہوکر موٴذن نمازِ ظہر کی اقامت کہے اور امام ظہر کی نماز پڑھائے۔پھر موٴذن نمازِ عصر کے لیے اقامت کہے اور امام عصر کی نماز پڑھائے۔اگر کسی نے ظہر کی نماز اپنے خیمہ میں اکیلے ادا کی تو وہ ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی ادا نہیں کرے گا، بلکہ وہ ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں اور عصر کی نماز عصر کے وقت میں اداکرے گا۔

    غروب آفتاب کے وقت مزدلفہ روانگی:غروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر‘ تلبیہ کہتے ہوئے مزدلفہ روانہ ہوجائیں۔

    وقوفِ مزدلفہ اور نماز مغرب و عشا کی اکٹھی ادائیگی:مزدلفہ پہنچ کرمغرب وعشا کی نمازیں ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ عشا کے وقت میں باجماعت ادا کریں۔ پہلے مغرب کے تین فرض ادا کریں‘ پھر تکبیر تشریق اور تلبیہ پڑھیں۔اس کے بعد ساتھ ہی عشا ادا کریں اور تکبیر تشریق اور تلبیہ پڑھیں۔پھر مغرب کی دو سنتیں‘ پھر عشا کی دو سنتیں اور پھر وتر ادا کریں۔ اگر کسی نے مزدلفہ پہنچنے سے پہلے ہی مغرب کی نماز پڑھ لی تو اس کی نماز نہ ہو گی اور اس کے ذمے مزدلفہ پہنچ کر ماقبل بیان کردہ ترتیب سے دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہو گا۔

    نوٹوقوفِ عرفہ کے دوران اگر حاجی بغیر جماعت کے اپنے خیموں میں نماز پڑھیں تو ان کے لیے حکم تھا کہ وہ ظہر کو ظہر کے وقت میں اور عصر کو عصر کے وقت میں ادا کریں‘لیکن وقوفِ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں اکٹھی عشا کے وقت ادا کرنی ہیں، چاہے جماعت کے ساتھ پڑھیں یا الگ الگ۔

    مزدلفہ میں ذکر واذکار اور دعا ئیں کرنایہ بڑی فضیلت والی اور مبارک رات ہے ‘اس میں زیادہ سے زیادہ ذکر و تلاوت ‘ تلبیہ اور دُعا وٴں کا اہتمام کریں۔ اس رات اپنے پروردگار کو اس خشوع و خضوع سے یاد کریں کہ دل میں اللہ رب العزت کے علاوہ کسی کی یاد نہ ہو۔بالفاظِ قرآنی:

    ﴿فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰٹکُمْ البقرة:۱۹۸

    ”پس اللہ کو یاد کرو مشعر حرام کے نزدیک( مشعر ِحرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میں واقع ہے) اور اس کو ایسے یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت کی ہے۔“

  • ۱۰: ذو الحجہ

    ۱۰: ذو الحجہ

    مزدلفہ میں نمازِ فجر ادا کرنا:وقوفِ مزدلفہ کی رات دعاوٴں میں مشغول ہو کر گزارنے کے بعد فجر کی نماز اول وقت میں باجماعت ادا کریں۔ پھر سورج نکلنے تک ذکر و اذکار ‘دعا و استغفاراور تلبیہ میں مشغول رہتے ہوئے وہیں وقوف کریں۔

    نوٹ:مزدلفہ میں جبل قُزح کے قریب وقوف کریں، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بھی اسی پہاڑ کے قریب وقوف کیا تھا۔

    مزدلفہ سے کنکریاں اُٹھانااس دوران مزدلفہ سے کنکریاں اُٹھائیں، جو جمرات کو مارنے کے لیے استعمال کی جا ئیں گی۔ہر حاجی چنے یا کھجور کی گٹھلی کے برابر ستر کنکریاں مزدلفہ سے اٹھا ئے۔

    منیٰ روانگی اور جمرئہ عقبہ( بڑے شیطان )کی رمی:طلوعِ آفتاب کے وقت منیٰ روانہ ہو جائیں اور منیٰ پہنچ کر سب سے پہلے جمرئہ عقبہ (بڑے شیطان) کی رمی کیجیے۔ ۱۰ ذو الحجہ کو صرف بڑے شیطان کی رمی کی جاتی ہے ۔ اس دن رمی کا افضل وقت طلوعِ آفتاب سے زوال تک ہے، لیکن اس کا جائز وقت 10 ذوالحجہ کے طلوعِ آفتاب سے لے کر اگلے دن 11ذوالحجہ کے صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے تک ہے۔

    رمی کا طریقہ:۱۰ ذوالحجہ کو صرف بڑے شیطان کی، جب کہ اگلے دونوں دن تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ رمی کا سنت طریقہ بھی ذکر کر دیا جائے۔

    رمی کا طریقہ یہ ہے کہ سات کنکریاں ہاتھ میں لے کر اس طرح کھڑے ہوں کہ منیٰ آپ کے دائیں جانب اور مکہ مکرمہ بائیں جانب ہو۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑ کر ایک ایک کنکری ستون پر مارتے جائیں( کنکر کا احاطے میں گرنا کافی ہے‘ستون کو لگنا ضروری نہیں)۔ ہر کنکری مارتے وقت ”بسم اللّٰہ اللّٰہ اکبر“ کہیں اور یہ دعا پڑھیں

    اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا

    ”اے اللہ! میرے حج کو قبول فرما اور میرے گناہوں کو بخش دے۔“

    نوٹ:رمی کے دوران تلبیہ پڑھنا بند کر دیں اور جمرہٴ عقبہ (بڑے شیطان)کی رمی کے بعداُس کے پاس کھڑے ہوکر دعا نہ مانگیں۔

    قربانی کرنارمی کے بعد قربانی کیجیے۔قربانی کرنا واجب ہے۔اس قربانی کے لیے تین دن ‘یعنی ۱۰‘۱۱‘۱۲ ذو الحجہ مقرر ہیں۔ ان دنوں میں جب چاہیں قربانی کر لیجیے، جب کہ پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے۔

    حلق یا قصر کرواناقربانی کرنے کے بعد مرد پورے سر کے بال منڈوائیں یاپورے سر کے بال انگلی کے پور سے کچھ زیادہ کاٹیں ‘مگر منڈوانا افضل ہے۔ خواتین پورے سر کے بال انگلی کے پور سے کچھ زیادہ کتروائیں ۔ تاہم چوتھائی سر کے بال کٹ جانے کا اطمینان ضرورکرلیں۔ حلق یا قصر کی شرعی حیثیت فرض کی ہے اور اس کے بعد سوائے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے احرام کی باقی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔

    نوٹماقبل ۱۰ ذوالحجہ کے جوتین مناسک:جمرئہ عقبہ (بڑے شیطان) کی رمی۔ قربانی اور حلق یا قصرذکر کیے ہیں، ان کو اسی ترتیب سے ادا کرنا واجب ہے ۔اگر کسی نے اس ترتیب کے اُلٹ کیا تو اس پر دم لازم ہو گا۔

    طوافِ زیارت:حلق یا قصر کے بعد غسل کیجیےپھر سلے ہوئے کپڑے پہن کر یا احرام ہی کی چادروں میں مکہ جا کر طواف کیجیے۔ اس کا وقت حلق سے فارغ ہونے کے بعد 12ذو الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔ افضل یہی ہے کہ ۱۰ ذو الحجہ ہی کو کر لیا جائے‘ ورنہ 12ذو الحجہ تک کبھی بھی کیا جاسکتا ہے۔ طوافِ زیارت کی شرعی حیثیت فرض کی ہے۔

    صفا و مروہ کی سعی طوافِ زیارت اور دو رکعت نمازِ طواف سے فارغ ہو کر صفا و مروہ کی سعی کریں ۔ صفا مروہ کی سعی کرنا واجب ہے۔

    نوٹاگر حاجی نے مکہ آنے کے بعد طواف قدوم(یعنی استقبالی طواف)کیا اور اس طواف میں رمل (طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑکر چلنا)بھی کیا اور اس کے بعد صفا ومروہ کی سعی بھی کی تو اب اس حاجی کے لیے طواف زیارت میں نہ تو رمل ہے اور نہ اس پر سعی واجب ہے۔ اور اگر حاجی نے مکہ آنے کے بعد طواف قدوم نہیں کیا تو اب وہ طواف زیارت میں رمل بھی کرے گا اور اس کے بعد سعی کرنا بھی اس پر واجب ہے۔

    منیٰ واپسی۱۰ ذوالحجہ کو مندرجہ بالا تمام افعال و مناسک کی ادائیگی کے بعد منیٰ واپس آجائیں اور رات منیٰ میں ہی گزاریں۔

  • ۱۱: ذو الحجہ

    ۱۱: ذو الحجہ

    تینوں جمرات کی رمی :۱۱ ذو الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کریں، بایں طور کہ پہلے جمرئہ اولیٰ (چھوٹا شیطان) کو سات کنکریاں ماریں‘پھر اس کے پاس کچھ دیر قبلہ رخ کھڑے ہوکر دعا مانگیں۔ پھر جمرئہ وسطیٰ (درمیانہ شیطان) کو سات کنکریاں ماریں اور دعا مانگیں۔پھر جمرہٴ عقبہ (بڑا شیطان) کو سات کنکریاں ماریں، لیکن اس کے پاس نہ کھڑے ہو اور نہ دعا مانگیں۔ اس دن رمی کا سنت وقت زوال سے غروب آفتاب سے پہلے تک ہے، جب کہ اس کا جائز وقت زوال سے صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے تک ہے ۔ رمی سے فارغ ہوکرمنیٰ واپس آجائیں۔

  • ۱۲: ذو الحجہ

    ۱۲: ذو الحجہ

    تینوں جمرات کی رمی :اس دن بھی زوال کے بعد غروب آفتاب سے پہلے تینوں جمرات کی رمی کریں، جس طرح گزشتہ روز11 ذو الحجہ کو تینوں جمرات کی رمی کی تھی۔

    ذوالحجہ کومنیٰ رکنے اور مکہ جانے کا اختیار ۱۳

    رکنا یا جانا:۱۲ ذوالحجہ کوجمرات کی رمی سے فارغ ہونے کے بعد حاجی کو اختیار ہے کہ مکہ چلا جائے۔اور اگر وہ مکہ نہیں جاتا اور واپس منیٰ چلا جاتا ہے تو اب اس کے ذمے ۱۳ ذوالحجہ کو بھی زوال کے بعد تینوں جمرا ت کی رمی کرنا لازم ہے(اگر طلوع آفتاب کے بعد زوال سے پہلے رمی کرلے تو بھی جائز ہے)۔ افضل یہی ہے کہ حاجی ۱۳ ذوالحجہ کو بھی منیٰ میں ٹھہرے اور تینوں جمرات کی رمی کر کے پھر مکہ واپس جائے۔اس لیے کہ احادیث میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم حجة الوداع کے موقع پر ۱۲ ذوالحجہ کو جمرات کی رمی کے بعد منیٰ واپس گئے اور پھر ۱۳ ذوالحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کی اور پھر مکہ روانہ ہوئے۔

    مکہ واپسی پر وادیٴ محصب میں جانا

    ۱۲یا۱۳ ذوالحجہ کو جب حاجی مکہ کی طرف واپسی کا کوچ کرے تو اس کو چاہیے کہ منیٰ اور مکہ کے درمیان وادیٴ محصب میں کچھ دیر قیام کرے، اس لیے کہ نبی اکرمصلی الله علیہ وسلم نے اس جگہ پر کچھ دیر قیام کیا تھا۔یہاں کچھ دیر قیام کرنا سنت ہے۔

  • ۱۳: ذو الحجہ

    ۱۳: ذو الحجہ

    مندرجہ بالا افعال و مناسک اداکرنے کے بعد آپ کا حج پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ البتہ ایک طواف رہ گیا جس کا وقت مکہ مکرمہ سے رخصت ہونے کا ہے۔اس کو طوافِ وداع کہا جاتا ہے۔ اس طواف کی شرعی حیثیت واجب کی ہے اور اس کا طریقہ عام نفل طواف کی طرح ہے، یعنی نہ اس میں رمل ہوگا اور نہ ہی اس کے بعد صفا اور مروہ کی سعی ہوگی، البتہ طواف کے دو نفل ضروری ہیں۔

Hajj Programme(Session 1)

Hajj Programme(Session 2)

Hajj Programme(Session 3)

Hajj Programme(Session 4)

Hajj Programme(Session 5)

Umrah Al-Amanah
  • 172 WESTERN ROAD, SOUTHALL, MIDDLESEX, UB2 5ED
  • T: 020 8813 8600
  • 020 3371 0449
  • 07877 757 168
  • E: info@umrah-alamanah.com
Newsletter
Al-Amanah accepts all major credit cards.
Copyright 2016-19 Al-Amanah Hajj & Umrah Ltd. Developed by ignytes. Privacy Policy | Terms & Condition
View Full Site View Mobile Optimized